113

کھایا پیا کچھ نہیں۔۔۔گلاس توڑا بارہ آنے- سید زاہد شہباز

عزت

کھایا پیا کچھ نہیں۔۔۔گلاس توڑا بارہ آنے

افسوس کے سوا اس فسانے میں رکھا ہی کیا ہے۔ایما ن، اتحاد، اوتنظیم کے ایفائے عہد کے دن ہم یہ کیسا تماشہ لگاتے ہیں۔کیا ضروری ہے؟ کہ اپنے اپنے رانجھے راضی کرنے کیلئے یہی ایام چنے جائیں۔عید پر ہمارا اختلاف،رمضان کا آغازمتنازعہ،محرم کے موقعہ پر قانون شکنی کے خدشات،قومی تہواروں پر قیادت کے جھگٹرے

کیا زمانے میں پنپنے کی یہی باتیں ہیں؟

آسان اور سادہ الفاظ میں ہم سب میں پر یقین رکھنے والی اس قوم کا حصہ ہیں جس کی ہر اکائی اپنی ذات میں انجمن اور اپنے تئیں عقل کل ہے۔قومی تہوار منانے کے لیے مشورے سے کام بہتر ہو سکتاہے تو کر لینا چاہئیے۔یہ کیا بات ہوئی دو چار افراد سر جوڑ یں اور فیصلہ کرکے من مانی کر گزریں۔باتیں ہم جمہوریت کی کرتے ہیں اور طبیعت اجارہ داری پر مائل۔کوئی لمحہ جانے نہیں دیتے خود کو دوسروں پر فوقیت دینے کا۔برابری،مساوات کے درس دھول سے اٹی کتابوں میں بوسیدہ ہو چلے۔اخلاقیات، قطاراور انتظارکا سبق کون پڑھائے اور کسے پڑھائے کہ اب نہ تووہ استاد رہے نہ ایسے شاگرد دستیاب۔

یہ ہے ہمارے جشن آزادی کا نتیجہ کہ اب تھانے کچہری کے رخ ہونے کی خبریں آرہی ہے۔نوبت شکوک و شبہات سے اگے نکل کر ہاتھا پائی، دھمکیوں اورکتے سور،کیاا شکال سے مشہابہت دینے “اور ماں بہن” پرآگئی ہے۔کوئی بعید ہے کہ کوئی حادثہ، کوئی واقعہ ہوجائے۔اور پرچم ایک بار پھر بے توقیر ہوجائے۔

کیا سوچتے ہوں گے یہ لوگ ہمارے بارے۔عید پر انہوں نے کہاایک ہو کر آؤتو چھٹی لے لو۔میلے پڑیدوں کی دعوتیں قبول کرنے سے پہلے پوچھتے ہیں کہ تمھارہ سب کا یوم آزادی الگ الگ ہے کیا؟ جواب ہاں میں آتا ہے۔اس لیے کہ ان کا”پنڈ” ایک ہے۔اور” پنڈ” کا چوہدری ایک ہی ہوتا ہے۔دوسرے کو خود سے بڑا عہدہ دے کر حیثیت گنوانا نہیں چاہتے۔دہائیوں سے ہر میدان میں ایک دوسرے کے مقابل ہیں۔اور جیتے جی ہار ماننے یا جیو اور جینے دو کی پالیسی اپنانے کا کوئی امکان نہیں

ملک اور قوم جیتے یا ہارے جئے یا مرے نہ مونچھ نیچی ہوگی نہ پگ کو داغ لگنے دیں گیں۔ دیار غیر میں ایک آوازہونے کی بجائے مشترکہ حل کی کوئی سنجیدہ کوشش کرنے کی بجائے ہم ہر سال قومی دن کے موقعہ پر نئی دشمنیاں پال لیتے ہیں۔ بطور مسلمان تفرقہ بازی نے ہمیں پہلے ہی ذلیل و رسوا کر رکھا ہے۔ اب رہی سہی کسر ہم ان موقعوں پر پوری کردیتے ہیں۔

کوئی ہے جو اس ہجوم کو طوفان بدتمیزی سے نکالنے کی سعی کر یں۔ سمجھائے کہ تحمل، بردباری اوروصبر مومن کی میراث ہے۔اتفاق میں برکت اور برداشت میں بقا ہے۔مل بیٹھ کر غلط فہمی دور کرنے سے کوئی چھوٹا نہیں ہوجائے گا۔با نہیں کھول کر تو دیکھئے کتنے آپکے سینے سے آن لگتے ہیں۔ شاید دنیا میں عزت وہ واحد چیز ہے جو دینے سے کم نہیں ہوتی بلکہ بڑھتی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں