71

سب جھوٹ بول رہے ہیں،’ ڈی پی او تبادلہ کیس میں چیف جسٹس اور سپریم کورٹ کے ریمارکس

سپریم کورٹ کے حکم پر ایک انکوائری ڈی پی او کے تبادلے میں سیاسی معاملے پر جب کہ دوسری انکوائری خاور مانیکا کے ساتھ پیش آنے والے واقعے پر کی جائے گی۔
اسلام آباد :وزیرِ اعظم عمران خان کی اہلیہ بشریٰ مانیکا کے سابق شوہر خاور مانیکا اور پنجاب پولیس کے درمیان تنازع اور ڈی پی او پاک پتن کے تبادلے سے متعلق سپریم کورٹ نے حکام کو دو تحقیقات کا حکم دے دیا ہے۔
سپریم کورٹ کے حکم پر ایک انکوائری ڈی پی او کے تبادلے میں سیاسی اثر و رسوخ کے معاملے پر جب کہ دوسری انکوائری خاور مانیکا کے ساتھ پیش آنے والے واقعے پر کی جائے گی۔
عدالت نے آئی جی پنجاب سے دونوں انکوائری رپورٹس ایک ہفتے میں طلب کرلی ہیں۔
چیف جسٹس پاکستان جسٹس ثاقب نثار نے ڈی پی او پاک پتن تبادلہ کی سماعت کے دوران ریمارکس دیے کہ عدالت وزیرِ اعلٰی پنجاب کو بھی بلائے گی۔
چیف جسٹس کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے ڈی پی او پاکپتن رضوان گوندل کے تبادلے سے متعلق از خود نوٹس کیس کی پیر کو سماعت کی
سماعت کے دوران عدالتی حکم پر خاتونی اول بشریٰ بی بی کے سابق شوہر خاور فرید مانیکا عدالت میں پیش ہوئے۔
اس پر آئی جی پنجاب نے جواب دیا کہ میں عدالت کے رحم و کرم پر ہوں۔ میں اس وقت اسلام آباد میں تھا۔ مجھے جب بتایا گیا تو ڈی پی او راستے میں تھے۔ حالات کے تناظر میں مجھے حقائق جاننے کے لیے تحقیقات کرانا پڑیں۔ ڈی پی او نے مجھ سے حقائق چھپائے۔ لڑکی کو روکنے اور چھوڑنے کے شواہد ملے ہیں۔
چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ وہ فائل کہاں ہے جس میں ٹرانسفر کے احکامات ہیں؟ اس پر سرکاری وکیل نے بتایا کہ زبانی حکم پر تبادلہ کیا گیا۔؂
عدالتی استفسار پر وزیرِ اعلیٰ کے پرسنل سیکریٹری نے بتایا کہ میں اس وقت وہاں موجود نہیں تھا۔ وزیرِ اعلٰی نے ڈی پی او اور آر پی او کو چائے پر بلانے کے لیے کہا تھا۔ ڈی پی او کو فون تبادلے کا علم ہونے کے بعد کیا۔
چیف جسٹس نے وزیرِ اعلیٰ کے پی ایس او پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے استفسار کیا کہ کس کے کہنے پر آپ لوگوں کو بلاتے رہے؟ وزیراعلٰی عدالت میں کیوں موجود نہیں؟ وزیرِ اعلیٰ کیا خدا ہے؟ ہم وزیرِ اعلیٰ کو بھی بلائیں گے۔ یہ لوگ کون ہوتے ہیں ایسے حکم دینے والے؟
چیف جسٹس نے کہا کہ پولیس نے بیٹی کے وقار کو برقرار نہیں رکھا۔ خاور مانیکا کی بیٹی اگر پیدل درگاہ جاتی ہے تو یہ ان کا عقیدہ ہے اور انہیں ایسا کرنے کا حق حاصل ہے۔ پولیس افسران کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے۔ احسن جمیل کے خلاف بھی کارروائی ہو گی جس نے وزیرِ اعلیٰ سے رابطہ کر کے پولیس افسران کو دھکیلا۔
اس موقع پر آئی ایس آئی کے کرنل طارق فیصل بھی عدالت میں پیش ہوئے۔ عدالت نے ان سے پوچھا کہ ایک معمولی سا واقعہ ہوا تھا، اس میں آئی ایس آئی کیسے شامل ہوگئی؟ آپ نے کیوں فون کرکے مداخلت کی؟
کرنل طارق نے عدالت کو بتایا کہ وہ اور رضوان گوندل اکٹھے ٹریننگ کرتے رہے ہیں۔ مجھے ایک مشترکہ دوست نے واقعے کے بارے میں بتایا۔ میں نے رضوان گوندل کو ذاتی حیثیت میں فون کیا۔ میں نے رضوان گوندل سے کہا کہ کسی ڈیرے پر جانے کی ضرورت نہیں ہے۔
چیف جسٹس نے آئی ایس آئی کے کرنل طارق سے کہا کہ میں آپ کے حوالے سے ادارے سے تحقیقات کراؤں گا۔ اگر آپ کو اختیار حاصل ہے تو آپ کون ہوتے ہیں ذاتی حیثیت میں مداخلت کرنے والے؟ چیف جسٹس نے کہا کہ سب جھوٹ بول رہے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں