76

امریکہ میں پاکستان کا دوست نہ رہا

سینیٹر میک کین کا پاکستان کے بارے میں رویہ بہت مثبت تھا اوروہ تعلقات میں ہمیشہ بہتری چاہتے تھے۔

واشنگٹن 151
پاکستان اور امریکہ کے تعلقات ایک مشکل مرحلے پر پہنچ چکے ہیں۔ اس موقع پر پاکستان کو امریکا میں دوستوں کی تلاش ہے، یہ خبر اسلام آباد میں انتہائی دکھ کے ساتھ سنی گئی کہ سینیٹر جان میک کین انتقال کرگئے ۔ پاکستان کے سیاست دانوں اور صحافیوں نے سینیٹر میک کین کے ساتھ ملاقاتوں کو یاد کیا اور بتایا کہ وہ ایک ہمدرداور اچھے انسان تھے۔

سابق وزیر خارجہ سرتاج عزیز نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ان کی سینیٹر میک کین سے کئی ملاقاتیں رہیں ہوئیں۔ ان کا پاکستان کے بارے میں مثبت رویہ تھا اور یہی کوشش تھی کہ پاکستان اور امریکہ کے تعلقات بہتر ہوں اور وہ ہمیشہ دوست رہیں اور دہشت گردی کے خلاف کام کرتے رہیں۔

سرتاج عزیز نے بتایا کہ نواز شریف جب وزیراعظم تھے تو انھوں نے سینیٹر میک کین کو پاکستان آنے کی دعوت دی تھی۔ چنانچہ وہ نومبر 2015 میں آئے اور اپنے ساتھ دو سینیٹرز کو بھی لائے۔ وہ وزیرستان گئے اور اس دورے کا ان پر بہت اثر ہوا۔ انھوں نے کہا کہ مجھے یقین نہیں آرہا کہ آپ نے دہشت گردی کے خلاف کس قدر کامیابیاں حاصل کی ہیں۔کوئی بھی ملک اس طرح دہشت گردی سے مقابلہ نہیں کر سکا انھوں نے امریکہ جاکر اس بارے میں مضمون بھی لکھا اور بیانات بھی دیے جسکا پاکستان پر بہت مثبت اثر ہوا۔

سینیٹ کی خارجہ امور کمیٹی کے چیئرمین مشاہد حسین سید نے کہا کہ سینیٹر جان میک کین نے امریکہ کی آرمڈ سروسز کمیٹی کے سربراہ کی حیثیت سے پاکستان کا دورہ کیا تو ان سے ملاقات ہوئی۔ وہ پہلے امریکی سیاست دان تھے جنھوں نے دہشت گردی پر پاکستانی موقف کی تائید کی اور امریکہ میں پاکستان کی ترجمانی کی۔ وہ پاکستان کے دوست تھے اور یہ ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔

مشاہد حسین سید نے بتایا کہ سینیٹر میک کین نے دو بنگلہ دیشی پناہ گزیں لڑکیوں کی پرورش بھی کی تھی اور ان کی زندگی کا یہ پہلو سب کو معلوم نہیں۔ وہ ری پبلکن ہونے کے باوجود صدر ٹرمپ کی کئی پالیسیوں پر تنقید کرتے تھے اور کہتے تھے کہ ان سے مسلمانوں کے خلاف جذبات پیدا ہوں گے اور یہ مسلمانوں کے لیے اچھا نہیں ہے۔

سینئر صحافی عظیم ایم میاں نے بتایا کہ انھوں نے سینیٹر میک کین کا کئی بار انٹرویو کیا تھا۔ وہ کوئی عام سینیٹر نہیں تھے بلکہ امریکی سیاست کامایا ناز نام تھے۔ وہ پاکستان کے حالات سے اچھی طرح واقفیت رکھتے تھے اور اس بارے میں دوسروں کی معلومات میں اضافہ کرتے تھے اور ان کو یقین تھا کہ پاکستان اچھے دور کی طرف جائے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں